6 اشعار

چاند کل ایسا لگا تاروں کے بیچ

chand kal aisa laga taron ke bich

چاند کل ایسا لگا تاروں کے بیچکوئی عاشق جیسے غم خواروں کے بیچ

سب سے تنہا لوگ صحرا میں نہیںگھومتے پھرتے ہیں بازاروں کے بیچ

ایک سایہ اور بھی آنگن میں تھادھوپ میں بیٹھے ہوئے یاروں کے بیچ

موت جس کے نام سے تم ڈر گئےروز کا قصہ ہے بیماروں کے بیچ

کون سے دل سے اسے ہم گھر کہیںایک چھت ہے چار دیواروں کے بیچ

کیسی کھل کر سانس آتی تھی مجھےہو گیا بیمار بیماروں کے بیچ

— شارق کیفی