5 اشعار

کسی سے خفا میں ہوا ہی نہیں

kisi se KHafa main hua hi nahin

کسی سے خفا میں ہوا ہی نہیںکبھی مجھ کو یہ حق ملا ہی نہیں

رواں یوں ہی رہنا ہے میرا نصیببکھر جاؤں اتنی ہوا ہی نہیں

کئی بار گزرا برابر سے میںاسے میرا دھوکا ہوا ہی نہیں

جو دنیا نے طے کی ہے میرے لیےکئے کی مرے وہ سزا ہی نہیں

رکے ہی کہاں سانس لینے کو ہمجو اس نے کہا وہ سنا ہی نہیں

— شارق کیفی