6 اشعار

چھوٹ رہا ہے گھر جیسا کچھ

chhuT raha hai ghar jaisa kuchh

چھوٹ رہا ہے گھر جیسا کچھپیٹھ پہ ہے بستر جیسا کچھ

نقطوں کو ہر ڈھنگ سے برتانہیں بنا منظر جیسا کچھ

کل کا سویرا ایک پہیلینیند سے پہلے ڈر جیسا کچھ

دو روحیں دو جسم ملا کربن جاتا ہے گھر جیسا کچھ

گل ہی اچھالا ہو گا تم نےمجھے لگا پتھر جیسا کچھ

اس لمحے کا وجود ہماراڈولتے پھرتے پر جیسا کچھ

— شارق کیفی