11 اشعار

ذرا بھی بدلی نہیں جو بھی اس کی عادت تھی

zara bhi badli nahin jo bhi uski aadat thi

ذرا بھی بدلی نہیں جو بھی اس کی عادت تھیملا تو آج بھی لہجے میں اجنبیت تھی

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھیتمام بازی گروں کو مری ضرورت تھی

وہ بات سوچ کے میں جس کو مدتوں جیتابچھڑتے وقت بتانے کی کیا ضرورت تھی

پتہ نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگیمجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی

خموشیوں نے پریشاں کیا تو ہو گا مگرپکارنے کی یہی صرف ایک صورت تھی

گئے بھی جان سے اور کوئی مطمئن نہ ہواکہ پھر دفاع نہ کرنے کی ہم پہ تہمت تھی

کہیں پہ چوک رہے ہیں یہ آئنے شایدنہیں تو عکس میں اب تک مری شباہت تھی

ہزار بار اشاروں میں اس کو سمجھایامگر اسے تو مرے جھوٹ سے محبت تھی

منا لیا ہے اسے پھر اسی کی شرطوں پرتمام عمر کسے روٹھنے کی فرصت تھی

ہر اک قدم پہ بہت سوچنا پڑا مجھ کوکہ امتحاں بھی وہیں تھے جہاں اجازت تھی

یہ اس کی شکل سے کیوں میرے خد و خال ابھرےاسے بھی فکر بہت تھی مجھے بھی حیرت تھی

— شارق کیفی