6 اشعار

دفتر میں بے کار کی باتیں کرتے رہیے

daftar mein bekar ki baaten karte rahiye

دفتر میں بے کار کی باتیں کرتے رہیےہفتے بھر اتوار کی باتیں کرتے رہیے

جب تک سچ مچ عشق نہیں ہو جائے کسی سےایک خیالی یار کی باتیں کرتے رہیے

بیماروں کو یوں ہی تسلی دی جاتی ہےان سے کسی بیمار کی باتیں کرتے رہیے

پیٹھ دکھانا یاد دلاتے رہیے اس کوبزدل سے تلوار کی باتیں کرتے رہیے

ہم نے تو اس کان سنا اس کان اڑایاآپ سمندر پار کی باتیں کرتے رہیے

میل سے بڑھ کر کھٹ پٹ سے رونق رہتی ہےآنگن میں دیوار کی باتیں کرتے رہیے

— شارق کیفی