7 اشعار

خموشی میں گزارہ کر رہا ہوں

KHamoshi mein guzara kar raha hun

خموشی میں گزارہ کر رہا ہوںاسی سے شور پیدا کر رہا ہوں

نیا رشتہ بنے اس عمر میں کیاپرانے کو پرانا کر رہا ہوں

مرے رونے پہ مجھ کو ٹوکیے متکمائی ہے تو خرچہ کر رہا ہوں

محبت نے دئے جو زخم مجھ کوانہیں نفرت سے اچھا کر رہا ہوں

یہ دنیا کیا مری نظروں میں آئےبڑے خوابوں کا پیچھا کر رہا ہوں

سنبھلتا ہوں تو یہ لگتا ہے مجھ کوتمہارے ساتھ دھوکا کر رہا ہوں

طبیبوں میں گھرا رہتا ہوں شارقؔمرض کو جان لیوا کر رہا ہوں

— شارق کیفی