10 اشعار

ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیں

hath aata to nahin kuchh pa taqaza kar aaen

ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیںاور اک بار گلی کا تری پھیرا کر آئیں

نیند کے واسطے ویسے بھی ضروری ہے تھکنپیاس بھڑکائیں کسی سائے کا پیچھا کر آئیں

لطف دیتی ہے مسیحائی پر اتنا بھی نہیںجوش میں اپنے ہی بیمار کو اچھا کر آئیں

لوگ محفل میں بلاتے ہوئے کتراتے تھےاب نہیں دھڑکا یہ خود سے کہ کہاں کیا کر آئیں

کاش مل جائے کہیں پھر وہی آئینہ صفتنقش بے ربط بہت ہیں انہیں چہرہ کر آئیں

کتنی آسانی سے ہم اس کو بھلا سکتے ہیںبس کسی طرح اسے دوسروں جیسا کر آئیں

یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ہار سے بچنے کے لیےاپنے دشمن کے کسی وار میں حصہ کر آئیں

بات ماضی کو الگ رکھ کے بھی ہو سکتی ہےاب جو حالات ہیں ان پر کبھی چرچا کر آئیں

یہ بتا کر کہ یہ رونق تو ذرا دیر کی ہےصاحب بزم کے ہیجان کو ٹھنڈا کر آئیں

کیا وجود اس کا اگر کوئی توجہ ہی نہ دےہم کہ جب چاہیں اسے بھیڑ کا حصہ کر آئیں

— شارق کیفی