7 اشعار

دروازے پر بستر

darwaze par bistar

ہاں یہی گھر ہے جہاںمیرے کمرے اور دروازہ کے بیچ

دستکیں ہی دستکیں تھیںاور میرا حکم

یہ کہہ دو کہ میں گھر پر نہیںآج دروازے پہ بستر ہے مرا

شور سے اندر کے بچنے کے لیےدور کی آہٹ پہ سارا دھیان ہے

اک رضائی بھر بچا ہے جب وجودکھولنا کنڈی بہت آسان ہے

آج دروازے پہ بستر ہے مراوقت نے کم کر دیا ہے فاصلہ

دستک کا میرے کان سے

— شارق کیفی