10 اشعار

ضبط کا خرچ

zabt ka KHarch

ضبط کو سوچ کر خرچ کرتا ہوں میںہر کسی پر نہیں

ہر جگہ پر نہیںاس لئے میری آنکھیں کبھی خشک ہوتی نہیں

ایسا لگتا ہے ہر بات پرجیسے رونے کو تیار بیٹھا ہوں میں

دوستوں سے ہوئی بد زبانی پہ بھیدکھ بھری دوسروں کی کہانی پہ بھی

یوںکہ میں ضبط کو خرچ کرنا نہیں چاہتا

چھوٹی موٹی کسی بات پرہاں مگر

بڑے واقعے جب ہوئےیہاں تک کہ جب میرے گھر سے جنازے اٹھے

تب کسی نے مری آنکھ میں ایک آنسو بھی دیکھا نہیںکوئی یہ سوچتا ہے اگر

کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کربڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے

تو پاگل ہے وہ

— شارق کیفی