8 اشعار

دل میں کچھ ہو تو مسکرائیے گا

dil mein kuchh ho to muskuraiyega

دل میں کچھ ہو تو مسکرائیے گابے سبب کام مت بڑھائیے گا

ہم کو مل جائیں آپ جیسے ہزاراتنی دنیا بھی مت دکھائیے گا

خود کشی سے ہی دیجئے گا جوابموت کی دھونس میں نہ آئیے گا

آئیے گا گناہ کرنے قبولجب عدالت سے چھوٹ جائیے گا

عشق اتنا بڑا گناہ نہیںچھپ نہ پائے تو مت چھپائیے گا

بے وفا یار ایک نعمت ہےورنہ کب تک کسے نبھائیے گا

یہ جو ہر وقت ہے گھڑی پہ نظرایسے رستہ نہ دیکھ پائیے گا

ہم نے اس بار تو منا لیا ہےاب یہ خطرہ نہیں اٹھائیے گا

— شارق کیفی