7 اشعار

مرنا بس اک بار کا دکھ ہے

marna bas ek bar ka dukh hai

مرنا بس اک بار کا دکھ ہےدائم تو بیمار کا دکھ ہے

میرا دکھ ہے جنگ میں ہونازخم مری تلوار کا دکھ ہے

ذلت میں کیا ایسا نیا تھاصرف بھرے دربار کا دکھ ہے

کون سے آنسو کیسی آہیںیہ اک دنیا دار کا دکھ ہے

شور شرابہ میری شکایتسناٹا بازار کا دکھ ہے

کھڑکی کو روتا ہے کمرہآنگن کو دیوار کا دکھ ہے

کیسے آنکھ بچاؤں شارقؔمیز پہ خاطر دار کا دکھ ہے

— شارق کیفی