7 اشعار

دوسرے ہاتھ کا دکھ

dusre hath ka dukh

میں تجھ سے کیوں خفا ہونے لگا قاضیمری تو روح تو نے پاک کر دی یہ سزا دے کر

کبھی میں سوچتا بھی جرم کو اپنےتو اب شاید نہ سوچوں گا

ہاںبرا گر مان سکتا ہے

تو میرا دوسرا یہ ہاتھجس کا ایک ہی ساتھی تھا اس دنیا میں

جو کہنی سے تو نے کاٹ ڈالااور یہ اپنے یار کا غم

کس قدراور کس طرح لیتا ہے دل پر

اس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے

— شارق کیفی