6 اشعار

ایک ایسا بھی وقت آتا ہے

ek aisa bhi waqt aata hai

ایک ایسا بھی وقت آتا ہےسایہ دیوار بھول جاتا ہے

چاہئے ہم کو دنیا والی آنکھآسماں کتنا دیکھ پاتا ہے

ایسا پہلے نہیں تھا میرے ساتھگھر بہت دور تک بلاتا ہے

روٹھ کر ہم بھی بھول جاتے ہیںدوسرا بھی نہیں مناتا ہے

وہ بھنور تو ابھی پڑا ہی نہیںجو کنارہ بھی ساتھ لاتا ہے

وہ جنوں جس پہ ناز تھا مجھ کواب تماشے کے کام آتا ہے

— شارق کیفی