7 اشعار

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے

ek muddat hui ghar se nikle hue

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئےاپنے ماحول میں خود کو دیکھے ہوئے

ایک دن ہم اچانک بڑے ہو گئےکھیل میں دوڑ کر اس کو چھوتے ہوئے

سب گزرتے رہے صف بہ صف پاس سےمیرے سینے پہ اک پھول رکھتے ہوئے

جیسے یہ میز مٹی کا ہاتھی یہ پھولایک کونے میں ہم بھی ہیں رکھے ہوئے

شرم تو آئی لیکن خوشی بھی ہوئیاپنا دکھ اس کے چہرے پہ پڑھتے ہوئے

بس بہت ہو چکا آئنے سے گلہدیکھ لے گا کوئی خود سے ملتے ہوئے

زندگی بھر رہے ہیں اندھیرے میں ہمروشنی سے پریشان ہوتے ہوئے

— شارق کیفی