8 اشعار

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے

KHamoshi bas KHamoshi thi ijazat ab hui hai

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہےاشاروں کو ترے پڑھنے کی جرأت اب ہوئی ہے

عجب لہجے میں کرتے تھے در و دیوار باتیںمرے گھر کو بھی شاید میری عادت اب ہوئی ہے

گماں ہوں یا حقیقت سوچنے کا وقت کب تکیہ ہو کر بھی نہ ہونے کی مصیبت اب ہوئی ہے

اچانک ہڑبڑا کر نیند سے میں جاگ اٹھا ہوںپرانا واقعہ ہے جس پہ حیرت اب ہوئی ہے

یہی کمرہ تھا جس میں چین سے ہم جی رہے تھےیہ تنہائی تو اتنی بے مروت اب ہوئی ہے

بچھڑنا ہے ہمیں اک دن یہ دونوں جانتے تھےفقط ہم کو جدا ہونے کی فرصت اب ہوئی ہے

عجب تھا مسئلہ اپنا عجب شرمندگی تھیخفا جس رات پر تھے وہ شرارت اب ہوئی ہے

محبت کو تری کب سے لیے بیٹھے تھے دل میںمگر اس بات کو کہنے کی ہمت اب ہوئی ہے

— شارق کیفی