10 اشعار

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا

jo kahta hai ki dariya dekh aaya

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیاغلط موسم میں صحرا دیکھ آیا

ڈگر اور منزلیں تو ایک سی تھیںوہ پھر مجھ سے جدا کیا دیکھ آیا

ہر اک منظر کے پس منظر تھے اتنےبہت کچھ بے ارادہ دیکھ آیا

کسی کو خاک دے کر آ رہا ہوںزمیں کا اصل چہرہ دیکھ آیا

رکا محفل میں اتنی دیر تک میںاجالوں کا بڑھاپا دیکھ آیا

تسلی اب ہوئی کچھ دل کو میرےتری گلیوں کو سونا دیکھ آیا

تماشائی میں جاں اٹکی ہوئی تھیپلٹ کر پھر کنارہ دیکھ آیا

بہت گدلا تھا پانی اس ندی کامگر میں اپنا چہرہ دیکھ آیا

میں اس حیرت میں شامل ہوں تو کیسےنہ جانے وہ کہاں کیا دیکھ آیا

وہ منظر دائمی اتنا حسیں تھاکہ میں ہی کچھ زیادہ دیکھ آیا

— شارق کیفی