10 اشعار

فقط حصے کی خاطر

faqat hisse ki KHatir

فقط حصے کی خاطرکٹ گئی یہ زندگی میلاد سننے میں

بلا جانے کہ حصہ ہے تو کیسا اور کتنایہ سب آساں نہیں تھا

گلاب اور عطر سے بھاری فضا میں سانس لینادیر تک آساں نہیں تھا

نہ آساں تھا سمجھنے کی اداکاری بھی کرنااس زباں کو

جس سے میں نا آشنا تھا اور وو بھی با ادب رہ کربہت بھاری تھا بیلے کا وہ گجرا

جو پہنایا گیا تھا مجھ کو اگلی صف میں بٹھانے سے پہلےہاں سزا جیسا تھا میرا بیٹھنا اس صف میں

جس میں ایک بھی بچہ نہیں تھااور جہاں سے دور تھیں سب چلمنیں

اور ان سے چھنتی رونقیںیہ سب قربانیاں دے کر اگر حصے کی خواہش ہے مجھے تو کیا غلط ہے

مرے حصے کی خواہش پر ہنسو متمرا حصہ تو پکا ہے اگر میں سو بھی جاؤں

خدا کو سب پتا ہے

— شارق کیفی