6 اشعار

فسردہ کر گیا اگلے زمانوں سے گزرنا

fasurda kar gaya agle zamanon se guzarna

فسردہ کر گیا اگلے زمانوں سے گزرناہوا کی شکل میں خالی مکانوں سے گزرنا

دھواں بوجھل فضائے میکدہ اور پھر اچانککسی بے ساختہ جملے کا کانوں سے گزرنا

کسی آسیب کو مٹی نہیں دیتا ہے کوئیہمیں مر کر بھی ہے اپنے ہی شانوں سے گزرنا

یہ جوکھم ہی نئے کچھ رنگ بھر سکتا ہے شب میںمرا اس وقت دشمن کے ٹھکانوں سے گزرنا

کسی پتھر کی صورت سخت و ساکت ہوں ابھی میںابھی باقی ہے میرا خاک دانوں سے گزرنا

ابھی اونچائی پر نظریں ہیں لیکن واپسی میںگراں ہوگا بہت ایسی ڈھلانوں سے گزرنا

— شارق کیفی