5 اشعار

نہیں پائی جھلک بھی دل ربا کی

nahin pai jhalak bhi dilruba ki

نہیں پائی جھلک بھی دل ربا کیعجب ویران محفل تھی خدا کی

گنے جاتے نہیں دن رات ہم سےسہولت دو ہمیں لمبی سزا کی

وہ گھر پہلے سے اچھا بن گیا ہےمگر دہشت نہیں جاتی گھٹا کی

ابھی دیکھی ہے کھڑکی کھول کے نبضبلا کی تیز دھڑکن ہے ہوا کی

ترا ہونا ہی کافی ہے شفا کوضرورت اب نہیں ہم کو دوا کی

— شارق کیفی