6 اشعار

ہے اب وہ بھی دست خریدار میں

hai ab wo bhi dast-e-KHaridar mein

ہے اب وہ بھی دست خریدار میںخدا کی دکاں بھی ہے بازار میں

زمیں آج وہ مانگنے آئی ہےجو اس کی امانت ہے بیمار میں

خزاں کا بھی ایسا نہیں کوئی زورجو کھو جاؤں پتوں کے انبار میں

نہ شیطان کو اب کوئی ضد رہینہ اب حوصلہ ہے گنہ گار میں

فقط ناتوانی کا ہے اعترافیہ نرمی جو آئی ہے گفتار میں

اسی کے اشاروں کو دی ہے زباںوہی ہے پس پردہ انکار میں

— شارق کیفی