6 اشعار

ہوس میں مبتلا ہم کو ملا تھا

gharon mein chhup ke na baiTho ki rut suhani hai

ہوس میں مبتلا ہم کو ملا تھایہ دل بگڑا ہوا ہم کو ملا تھا

پرانا آئنہ یوں توڑ ڈالاوہ چہروں سے بھرا ہم کو ملا تھا

ہمیشہ سے تھی پھیکی روشنائیقلم ٹوٹا ہوا ہم کو ملا تھا

تری آنکھوں سے ہم کو یاد آیایہاں کچھ کام کا ہم کو ملا تھا

مثالی کہہ رہے ہیں آپ جس کویہ غم مرتا ہوا ہم کو ملا تھا

بنا جو باعث رسوائی شارقؔوہ خط لکھا ہوا ہم کو ملا تھا

— شارق کیفی