4 اشعار

گھروں میں چھپ کے نہ بیٹھو کہ رت سہانی ہے

zara si baat par ghabrane wale

گھروں میں چھپ کے نہ بیٹھو کہ رت سہانی ہےچھتوں پہ آؤ کہ ساون کا پہلا پانی ہے

وفائیں آج بھی خوں مانگتی ہیں خوابوں کاسزا کے ڈھنگ نئے ہیں سزا پرانی ہے

یہ حادثات تو بچپن سے ساتھ ہیں میرےتمہارا غم تو بہت بعد کی کہانی ہے

کسی خیال کی پھر تمکنت ہے چہرہ پرکسی کے سرخ دوپٹے سے دھوپ چھانی ہے

— شارق کیفی