5 اشعار

خدا کے اس قدر نزدیک جانا پڑ رہا ہے

KHuda ke is qadar nazdik jaana paD raha hai

خدا کے اس قدر نزدیک جانا پڑ رہا ہےاسے منصب ہمیں ایماں بچانا پڑ رہا ہے

جسے ہم زندگی بھر یاد رکھنا چاہتے تھےبہت تیزی سے وہ چہرہ پرانا پڑ رہا ہے

رقیبو تم رکو ممکن ہے وہ ہاتھ آ ہی جائےہمیں تو خیر جلدی لوٹ جانا پڑ رہا ہے

کسی پر دیر سے کھولا تھا دل کا راز ہم نےکسی کو وقت سے پہلے بتانا پڑ رہا ہے

کہاں خاطر میں لاتا تھا وہ میری سادگی کواسے پہلے کا اک چہرہ دکھانا پڑ رہا ہے

— شارق کیفی