8 اشعار

گزر رہا ہے وہ لمحہ تو یاد آیا ہے

guzar raha hai wo lamha to yaad aaya hai

گزر رہا ہے وہ لمحہ تو یاد آیا ہےاس ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے

اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھراسی نگاہ میں سب کچھ نظر بھی آیا ہے

یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحان میرے لیےترے لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے

بہے رقیب کے آنسو بھی میرے گالوں پریہ سانحہ بھی محبت میں پیش آیا ہے

یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوااندھیرا ہوتے ہی جو مجھ میں آ سمایا ہے

ہمارے عشق سے مرعوب اس قدر بھی نہ ہویہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے

یہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیںوہ کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے

بہت سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیںیہ دکھ کسی نے ہمارے لئے اٹھایا ہے

— شارق کیفی