10 اشعار

سامنے تیرے ہوں گھبرایا ہوا

samne tere hun ghabraya hua

سامنے تیرے ہوں گھبرایا ہوابے زباں ہونے پہ شرمایا ہوا

لاکھ اب منظر ہو دھندلایا ہوایاد ہے مجھ کو نظر آیا ہوا

یہ بھی کہنا تھا بتا کر راستہمیں وہی ہوں تیرا بھٹکایا ہوا

میں کہ اک آسیب اک بے چپن روحبے وضو ہاتھوں کا دفنایا ہوا

آ گیا پھر مشورہ دینے مجھےخیمۂ دشمن کا سمجھایا ہوا

پھر وہ منزل لطف کیا دیتی مجھےمیں وہاں پہنچا تھا جھنجھلایا ہوا

تیری گلیوں سے گزر آساں نہیںآج بھی چلتا ہوں گھبرایا ہوا

کچھ نیا کرنے کا پھر مطلب ہی کیاجب تماشائی ہے اکتایا ہوا

کم سے کم اس کا تو رکھتا وہ لحاظمیں ہوں اک آواز پر آیا ہوا

مجھ کو آسانی سے پا سکتا ہے کونمیں ہوں تیرے در کا ٹھکرایا ہوا

— شارق کیفی