9 اشعار

ہیں اب اس فکر میں ڈوبے ہوئے ہم

hain ab is fikr mein Dube hue hum

ہیں اب اس فکر میں ڈوبے ہوئے ہماسے کیسے لگے روتے ہوئے ہم

کوئی دیکھے نہ دیکھے سالہا سالحفاظت سے مگر رکھے ہوئے ہم

نہ جانے کون سی دنیا میں گم ہیںکسی بیمار کی سنتے ہوئے ہم

رہے جس کی مسیحائی میں اب تکاسی کے چارہ گر ہوتے ہوئے ہم

گراں تھی سائے کی موجودگی بھیاب اپنے آپ سے سہمے ہوئے ہم

کہاں ہیں خواب میں دیکھے جزیرےنکل آئے کدھر بہتے ہوئے ہم

بڑھیں نزدیکیاں اس درجہ خود سےکہ اب اس کا بدل ہوتے ہوئے ہم

رکھیں کیونکر حساب ایک ایک پل کابلا سے روز کم ہوتے ہوئے ہم

بہت ہمت کا ہے یہ کام شارقؔکہ شرماتے نہیں ڈرتے ہوئے ہم

— شارق کیفی