11 اشعار

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے

sach to baiTh ke khata hai

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہےجھوٹ کما کر لاتا ہے

یاد بھی کوئی آتا ہےیاد تو رکھا جاتا ہے

جیسے لفظ ہوں ویسا ہیمنہ کا مزہ ہو جاتا ہے

پھر دشمن بڑھ جائیں گےکس کو دوست بناتا ہے

کیسی خشک ہوائیں ہیںصبح سے دن چڑھ جاتا ہے

اسے گھٹا کر دنیا میںباقی کیا رہ جاتا ہے

جانے وہ اس چہرہ پرکس کا دھوکہ کھاتا ہے

عشق سے بڑھ کر کون ہمیںدنیا دار بناتا ہے

دل جیسا معصوم بھی آجاپنی عقل چلاتا ہے

کچھ تو ہے جو صرف یہاںمیری سمجھ میں آتا ہے

مشکل سن لی جاتی ہےکوئی کرم فرماتا ہے

— شارق کیفی