7 اشعار

یوں بھی صحرا سے ہم کو رغبت ہے

yun bhi sahra se hum ko raghbat hai

یوں بھی صحرا سے ہم کو رغبت ہےبس یہی بے گھروں کی عزت ہے

اب سنورنے کا وقت اس کو نہیںجب ہمیں دیکھنے کی فرصت ہے

تجھ سے میری برابری ہی کیاتجھ کو انکار کی سہولت ہے

قہقہہ ماریے میں کچھ بھی نہیںمسکرانے میں جتنی محنت ہے

سیر دنیا کو آ تو جاؤ مگرواپسی میں بڑی مصیبت ہے

یہ جو اک شکل مل گئی ہے مجھےیہ بھی آئینے کی بدولت ہے

یہ ترے شہر میں کھلا مجھ پرمسکرانا بھی ایک عادت ہے

— شارق کیفی