6 اشعار

ہمیں پتہ ہے کہ پرچہ برا نہیں آیا

hamein pata hai ki parcha bura nahin aaya

ہمیں پتہ ہے کہ پرچہ برا نہیں آیامگر تمہارا پڑھایا ہوا نہیں آیا

کسی کے حال پہ ہنسنے گیا تھا محفل میںمگر میں لوٹ کے ہنستا ہوا نہیں آیا

میں شرمسار کہ پھر دیر ہو گئی مجھ کووہ سوچتا ہے کہ اچھا ہوا نہیں آیا

ہماری چیخ نے اک بھیڑ تو اکٹھا کیمگر ہمارا پکارا ہوا نہیں آیا

تری طرح نہیں آسان واپسی میریمیں راستوں کو سمجھتا ہوا نہیں آیا

چنی وہ بس کہ زیادہ تھیں لڑکیاں جس میںبچھڑ کے تجھ سے میں روتا ہوا نہیں آیا

— شارق کیفی