6 اشعار

خواب ویسے تو اک عنایت ہے

KHwab waise to ek inayat hai

خواب ویسے تو اک عنایت ہےآنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے

جسم آیا کسی کے حصے میںدل کسی اور کی امانت ہے

جان دینے کا وقت آ ہی گیااس تماشے کے بعد فرصت ہے

عمر بھر جس کے مشوروں پہ چلےوہ پریشان ہے تو حیرت ہے

اب سنورنے کا وقت اس کو نہیںجب ہمیں دیکھنے کی فرصت ہے

اس پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ہیںجس کی آنکھوں میں جتنی حیرت ہے

— شارق کیفی