9 اشعار

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

jhuT par uske bharosa kar liya

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیادھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا

اب ہماری مشکلیں کچھ کم ہوئیںدشمنوں نے ایک چہرا کر لیا

ہاتھ کیا آیا سجا کر محفلیںاور بھی خود کو اکیلا کر لیا

ہارنے کا حوصلہ تو تھا نہیںجیت میں دشمن کی حصہ کر لیا

منزلوں پر ہم ملیں یہ طے ہواواپسی میں ساتھ پکا کر لیا

ساری دنیا سے لڑے جس کے لیےایک دن اس سے بھی جھگڑا کر لیا

قرب کا اس کے اٹھا کر فائدہہجر کا ساماں اکٹھا کر لیا

گفتگو سے حل تو کچھ نکلا نہیںرنجشوں کو اور تازہ کر لیا

مول تھا ہر چیز کا بازار میںہم نے تنہائی کا سودا کر لیا

— شارق کیفی