7 اشعار

حقیقت کھل نہیں پائی ابھی تک

haqiqat khul nahin pai abhi tak

حقیقت کھل نہیں پائی ابھی تکپہیلی ہے وہ خاموشی ابھی تک

قسم دینا نہیں چھوڑا کسی نےمری سگریٹ نہیں چھوٹی ابھی تک

بہت بوڑھی ہے خاموشی ہماریمگر اونچا نہیں سنتی ابھی تک

پتہ بھی ہے زمیں کی عمر کیا ہےبنی بیٹھی ہے جو بچی ابھی تک

نہ جانے شیو چبھتا ہے کہ بسترنہیں سویا نیا قیدی ابھی تک

بڑے بیمار کا چھوٹا سا شکوہمری چادر نہیں بدلی ابھی تک

یہ گھر خود میں جو اک دنیا ہے پورییہی دنیا نہیں دیکھی ابھی تک

— شارق کیفی