7 اشعار

جب مجھے کام کا بتایا گیا

jab mujhe kaam ka bataya gaya

جب مجھے کام کا بتایا گیااور بھی مجھ پہ ظلم ڈھایا گیا

اور تو ہم سے کیا کمایا گیاتیرا غم تھا سو بیچ کھایا گیا

اس کا پہلا سوال واپسی پرراستہ کیوں نہیں سجایا گیا

ہو چکے تھے بلا کے ہم تیراکجب ہمیں ڈوبنا سکھایا گیا

ہر غزل کے جواب میں میریایک بازارو گیت گایا گیا

تھا کوئی راز بے زبانی کاجس کو آواز میں چھپایا گیا

چاق و چوبند مجھ کو رہنا پڑامیرے اتنا قریب آیا گیا

— شارق کیفی