6 اشعار

ملے تو کچھ بات بھی کرو گے

mile to kuchh baat bhi karoge

ملے تو کچھ بات بھی کرو گےکہ بس اسے دیکھتے رہو گے

یہ لفظ تو منتخب کئے تھےہماری ہر بات کب سنو گے

وہ اپنے رستے میں خود کھڑا ہےکہاں تلک اس کا ساتھ دوگے

یہ وہم بھی چھوڑ دو کہ اب تمکسی کے چھونے سے جی اٹھوگے

جو بات اب کھل چکی ہے اس کودلوں میں رکھ کے بھی کیا کرو گے

چلو اسی زندگی کو جی لیںکہانی بن کے بھی کیا کرو گے

— شارق کیفی