5 اشعار

حریف مجھ سا اگر ہو تو کچھ خسارہ نہیں

harif mujh sa agar ho to kuchh KHasara nahin

حریف مجھ سا اگر ہو تو کچھ خسارہ نہیںجو خود بھی جیت گیا اور کوئی ہارا نہیں

لہو میں ڈولتی پھرتی ہے اب بھنور کی طرحوہ ایک لہر جسے ہم نے پار اتارا نہیں

مگر یہ بات بتاؤں تو کس طرح اس کوکہ خامشی میں تری اب مرا گزارہ نہیں

جنوں کو اپنے پرکھنا تھا سو پرکھ آئےاب اور کام کوئی دشت میں ہمارا نہیں

عجیب نشۂ آوارگی ہے سر پہ سوارسکوں بھی آج ہمیں دیر تک گوارہ نہیں

— شارق کیفی