7 اشعار

خدا نے تو صبر آزمایا مرا

KHuda ne to sabr aazmaya mera

خدا نے تو صبر آزمایا مرامگر تم نے کیوں دل دکھایا مرا

غموں کے تھے اپنے خسارے مگرخوشی نے تو گھر بیچ کھایا مرا

چلا تو میں شاید قدم دو قدمبھروسہ مگر لوٹ آیا مرا

مرا ہاتھ ہو گا گریبان پرکوئی کچھ اگر کر نہ پایا مرا

چھپا کر ہوا مجھ کو ڈھانے کا کامسو ملبہ بھی اندر گرایا مرا

کہاں کب اسے کام میں لے لیایہ قاتل نہیں جان پایا مرا

مرا جسم بھی یہ نہیں جانتاکہاں ختم ہوتا ہے سایہ مرا

— شارق کیفی