8 اشعار

رات بے پردہ سی لگتی ہے مجھے

raat be-parda si lagti hai mujhe

رات بے پردہ سی لگتی ہے مجھےخوف نے ایسی نظر دی ہے مجھے

آہ اس معصوم کو کیسے بتاؤںکیوں اسے کھونے کی جلدی ہے مجھے

جوش میں ہیں اس قدر تیماردارٹھیک ہوتے شرم آتی ہے مجھے

اک لطیفہ جو سمجھ میں بھی نہ آئےاس پہ ہنسنا کیوں ضروری ہے مجھے

منتشر ہونے لگے سارے خیالنیند بس آنے ہی والی ہے مجھے

اب جنوں کم ہونے والا ہے مراخیر اتنی تو تسلی ہے مجھے

لاکھ مدھم ہو تری چاہت کی لوروشنی اتنی ہی کافی ہے مجھے

گرد ہے بارود کی سر میں تو کیاموت اک افواہ لگتی ہے مجھے

— شارق کیفی