5 اشعار

ذرا سی بات پر گھبرانے والے

hawas mein mubtala hum ko mila tha

ذرا سی بات پر گھبرانے والےعجب ہم کو ملے سمجھانے والے

ہمیں تو رات بھر کو چاہئیں لوگکہاں ہیں بات کو الجھانے والے

زمانہ سے نہیں آئے وہ طوفاںہمیں صحراؤں تک پھیلانے والے

یہی تو اصل مجرم ہیں تمہارےتمہیں مجرم نہیں ٹھہرانے والے

مگر یہ بول میٹھے ہی رہیں گےبدل جائیں گے ان کو گانے والے

— شارق کیفی