11 اشعار

جب کبھی زخم شناسائی کے بھر جاتے ہیں

wo bhi mahir tha bahut baat ko uljhane mein

جب کبھی زخم شناسائی کے بھر جاتے ہیںاس کی گلیوں سے گزرتے ہوئے گھر جاتے ہیں

جو ضروری تھا وہی بھولنا ہم بھول گئےراستہ بند اگر ہو تو کدھر جاتے ہیں

اور تو خوف نہیں ہم کو کسی کا لیکنکوئی اپنا سا نظر آئے تو ڈر جاتے ہیں

کسی طوفان کی افواہ اڑاتا ہے کوئیاور ہم ڈر کے کنارے پہ اتر جاتے ہیں

جان دے کر بھی ترا وعدہ نبھانے والےتیرے حق میں کوئی اچھا نہیں کر جاتے ہیں

سب کے کہنے پہ بہت حوصلہ کرتے ہیں تو ہمحد سے حد اس کے برابر سے گزر جاتے ہیں

ٹھیک سے زخم کا اندازہ کیا ہے کس نےبس سنا تھا کہ بچھڑتے ہیں تو مر جاتے ہیں

ہم بچھڑ کر بھی جئیں گے یہ تصور ہی نہ تھاکیا خبر تھی کہ یہ لمحہ بھی گزر جاتے ہیں

راہ چلتے جو کچھ اک پل کو نظر آئے تھےقربتیں ہوں تو وہی رنگ ٹھہر جاتے ہیں

جانے کیوں سوچتا رہتا ہوں مسلسل جس کوذہن سے اس کے خد و خال اتر جاتے ہیں

اب تو ہر زخم نیا ایک نئی راحت ہےایک بار آ کے کہیں ایسے ہنر جاتے ہیں

— شارق کیفی