7 اشعار

ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیا

hone se mere farq hi paDta tha bhala kya

ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیامیں آج نہ جاگا تو سویرا نہ ہوا کیا

سب بھیگی رتیں نیند کے اس پار ہیں شایدلگتی ہے ذرا آنکھ تو آتی ہے ہوا کیا

ہم کھوج میں جس کی ہیں پریشان ازل سےبیمار کی آنکھوں نے وہ در ڈھونڈ لیا کیا

مقتول کو بانہوں میں لیے بیٹھا رہوں کیوںاس جرم سے لینا ہے اسے اور مزہ کیا

دیوار قفس کی ہو کہ گھر کی مجھے کیا فرقتفریح کے ساماں ہوں میسر تو سزا کیا

ایسا تو کبھی رقص میں بے خود نہ ہوا میںمے خانہ کے ماحول میں ہوتا ہے نشہ کیا

یہ دھوپ کی تیزی یہ سرابوں کی سجاوٹصحرا نے جنوں کو مرے پہچان لیا کیا

— شارق کیفی