8 اشعار

کم سے کم دنیا سے اتنا مرا رشتہ ہو جائے

kam se kam duniya se itna mera rishta ho jae

کم سے کم دنیا سے اتنا مرا رشتہ ہو جائےکوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہو جائے

اسی مجبوری میں یہ بھیڑ اکٹھا ہے یہاںجو ترے ساتھ نہیں آئے وہ تنہا ہو جائے

شکر اس کا ادا کرنے کا خیال آئے کسےابر جب اتنا گھنا ہو کہ اندھیرا ہو جائے

ہاں نہیں چاہئے اس درجہ محبت تیریکہ مرا سچ بھی ترے جھوٹ کا حصہ ہو جائے

بند آنکھوں نے سرابوں سے بچایا ہے مجھےآنکھ والا ہو تو اس کھیل میں اندھا ہو جائے

میں بھی قطرہ ہوں تری بات سمجھ سکتا ہوںیہ کہ مٹ جانے کے ڈر سے کوئی دریا ہو جائے

بس اسی بات پہ آئینوں سے بگڑی میریچاہتا تھا مرا اپنا کوئی چہرہ ہو جائے

بزم یاراں میں یہی رنگ تو دیتے ہیں مزہکوئی روئے تو ہنسی سے کوئی دہرا ہو جائے

— شارق کیفی