13 اشعار

پہلی بار وہ خط لکھا تھا

pahli bar wo KHat likkha tha

پہلی بار وہ خط لکھا تھاجس کا جواب بھی آ سکتا تھا

خود افواہ اڑاتا تھا میںخود ہی یقیں بھی کر لیتا تھا

اس سے کہو اس روپ میں آئےجیسا پہلی نظر میں لگا تھا

بھول چکا تھا دے کے صدا میںتب جنگل کا جواب آیا تھا

ہم تو پرائے تھے اس گھر میںہم سے کون خفا ہوتا تھا

ٹوٹ گئے اس کوشش میں ہماپنی طرف جھکنا چاہا تھا

الجھ رہی تھی آنکھ کہیں پرکوئی مجھے پہچان رہا تھا

ٹوٹ گیا پھر غم کا نشہ بھیدکھ کتنا سکھ دے سکتا تھا

جگہ جگہ سے ٹوٹ رہا ہوںکس نے مجھے چھو کر دیکھا تھا

کتنے سچے دل سے ہم نےاپنا اپنا جھوٹ کہا تھا

پہلی بار میں اس کی خاطراپنے لئے کچھ سوچ رہا تھا

اتنے سمجھانے والے تھےمیں کچھ کیسے سمجھ سکتا تھا

بڑی بڑی آنکھوں میں اس کیکوئی سوال ہوا کرتا تھا

— شارق کیفی