7 اشعار

سونا آنگن نیند میں ایسے چونک اٹھا ہے

hum aisa nahin ghar nahin aaenge

سونا آنگن نیند میں ایسے چونک اٹھا ہےسوتے میں بھی جیسے کوئی سسکی لیتا ہے

گھر میں تو اس ماحول کا میں عادی ہوں لیکنبازاروں کی ویرانی سے دم گھٹتا ہے

مدت سے میں سوچ رہا تھا اب سمجھا ہوںجیب اور آنکھ کے خالی پن میں کیا رشتہ ہے

اتنے لوگ مجھے رخصت کرنے آئے ہیںگھر واپس جانا بھی تماشا سا لگتا ہے

لوگ تو اپنی جانب سے کچھ جوڑ ہی لیں گےاتنی ادھوری باتیں ہیں وہ کیوں کرتا ہے

اپنی کیا ان رستوں کے بارے میں سوچوںان کا سفر تو میری عمر سے بھی لمبا ہے

اس کی آنکھوں سے اوجھل مت ہونا شارقؔپیچھا کرنے والا بہت تنہا ہوتا ہے

— شارق کیفی