9 اشعار

سفر سے مجھ کو بد دل کر رہا تھا

safar se mujhko bad-dil kar raha tha

سفر سے مجھ کو بد دل کر رہا تھابھنور کا کام ساحل کر رہا تھا

وہ سمجھا ہی کہاں اس مرتبے کومیں اس کو دکھ میں شامل کر رہا تھا

ہماری فتح تھی مقتول ہونایہی کوشش تو قاتل کر رہا تھا

کوئی تو تھا مرے ہی قافلے میںجو میرا کام مشکل کر رہا تھا

وہ ٹھکرا کر گیا اس دور میں جبمیں جو چاہوں وہ حاصل کر رہا تھا

تری باتوں میں یوں بھی آ گیا میںبھٹکنے کا بہت دل کر رہا تھا

کوئی مجھ سا ہی دیوانہ تھا شایدجو ویرانے میں محفل کر رہا تھا

یہ دل خود غرض دل غم خوار تیراخوشی غم میں بھی حاصل کر رہا تھا

سمجھتا تھا میں سازش آئنے کیمجھے میرے مقابل کر رہا تھا

— شارق کیفی