9 اشعار

حقوق جب یاد آئے اپنے

huquq jab yaad aae apne

حقوق جب یاد آئے اپنےغلام پر مسکرائے اپنے

بہت جنازے تھے راستے میںقدم بھی ہم گن نہ پائے اپنے

وہ کون سی راز داریاں تھیںکہ سائے باہر بٹھائے اپنے

ہوا نے آندھی کی شکل لے کرتمام قیدی چھڑائے اپنے

اک اور دن کی ہے آمد آمدخدا نے مہرے سجائے اپنے

کھڑے ہیں لاشوں کے درمیاں ہمامام ضامن بندھائے اپنے

کیا ہی کیا اور زندگی بھربدن کے نخرے اٹھائے اپنے

کسی کا دشمن نہیں تھا دریابھنور تو ہم ساتھ لائے اپنے

یہی تو محفل بگاڑتے ہیںجو ہیں یہاں بن بلائے اپنے

— شارق کیفی