5 اشعار

خیال سا ہے کہ تو سامنے کھڑا تھا ابھی

KHayal sa hai ki tu samne khaDa tha abhi

خیال سا ہے کہ تو سامنے کھڑا تھا ابھیغنودگی میں ہوں شاید میں سو گیا تھا ابھی

پھر اس کی شکل خیالوں میں صاف بننے لگییہ مسئلہ تو وہی ہے جو حل ہوا تھا ابھی

سنا ہے پھر کوئی مجھ کو بچانا چاہتا ہےکسی طرح تو مرا فیصلہ ہوا تھا ابھی

یہیں کھڑا تھا وہ آنکھوں میں کتنے خواب لیےمیں اس کو اس کا نیا گھر دکھا رہا تھا ابھی

اسی کے بارے میں سوچا تو کچھ نہ تھا معلوماسی کے بارے میں اتنا کہا سنا تھا ابھی

— شارق کیفی