7 اشعار

محور مجھے بنا سکتے ہو

mehwar mujhe bana sakte ho

محور مجھے بنا سکتے ہواپنی دھوپ بچا سکتے ہو

خواب توانا ہے تو کیا ہےجسم سے دھوکا کھا سکتے ہو

گٹھری رکھ دیں پیٹھ ٹکا لیںاتنی جگہ بنا سکتے ہو

کوئی بدل ملنے تک میرامجھ سے کام چلا سکتے ہو

آج نہیں پابندی کوئیموت کا گھر ہے آ سکتے ہو

تم سے جھگڑتے ڈر لگتا ہےماضی بیچ میں لا سکتے ہو

شکل بدل کر آتا ہوں میںتم تب تک سستا سکتے ہو

— شارق کیفی