9 اشعار

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں

intiha tak baat le jata hun main

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میںاب اسے ایسے ہی سمجھاتا ہوں میں

کچھ ہوا کچھ دل دھڑکنے کی صداشور میں کچھ سن نہیں پاتا ہوں میں

بن کہے آؤں گا جب بھی آؤں گامنتظر آنکھوں سے گھبراتا ہوں میں

یاد آتی ہے تری سنجیدگیاور پھر ہنستا چلا جاتا ہوں میں

فاصلہ رکھ کے بھی کیا حاصل ہواآج بھی اس کا ہی کہلاتا ہوں میں

چھپ رہا ہوں آئنے کی آنکھ سےتھوڑا تھوڑا روز دھندلاتا ہوں میں

اپنی ساری شان کھو دیتا ہے زخمجب دوا کرتا نظر آتا ہوں میں

سچ تو یہ ہے مسترد کر کے اسےاک طرح سے خود کو جھٹلاتا ہوں میں

آج اس پر بھی بھٹکنا پڑ گیاروز جس رستے سے گھر آتا ہوں میں

— شارق کیفی