8 اشعار

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے

ye kuchh badlaw sa achchha laga hai

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہےہمیں اک دوسرا اچھا لگا ہے

سمجھنا ہے اسے نزدیک جا کرجسے مجھ سا برا اچھا لگا ہے

یہ کیا ہر وقت جینے کی دعائیںیہاں ایسا بھی کیا اچھا لگا ہے

سفر تو زندگی بھر کا ہے لیکنیہ وقفہ سا ذرا اچھا لگا ہے

مری نظریں بھی ہیں اب آسماں پرکوئی محو دعا اچھا لگا ہے

ہوئے برباد جس کے عشق میں ہموہ اب جا کر ذرا اچھا لگا ہے

وہ سورج جو مرا دشمن تھا دن بھرمجھے ڈھلتا ہوا اچھا لگا ہے

کوئی پوچھے تو کیا بتلائیں گے ہمکہ اس منظر میں کیا اچھا لگا ہے

— شارق کیفی