6 اشعار

اتنا تنہائی سے گھبرانے لگے ہیں

itna tanhai se ghabrane lage hain

اتنا تنہائی سے گھبرانے لگے ہیںبے ضرورت کام الجھانے لگے ہیں

جو بھنور گہرائی میں پڑتے تھے پہلےاب کنارے پر نظر آنے لگے ہیں

کوئی تو منزل کا رستہ ہے ادھر سےراستے گھر کی طرف جانے لگے ہیں

یوں بھی لازم ہے نیا کوئی تماشہلوگ بازی گر سے اکتانے لگے ہیں

جو ترے کوچے کو جاتے تھے وہ رستےدوسری دنیا میں لے جانے لگے ہیں

ہو گیا ہے موت کا احساس شایدجلدی جلدی کام نمٹانے لگے ہیں

— شارق کیفی